Friday, 12 September 2014

story '''''یوم دفاع اور بچوں کا جوش و جذبہ''''''

یوم دفاع اور بچوں کا جوش و جذبہ
جوش وجذبہ 6ستمبر1965ء کوہونے والی پاک بھارت جنگ کے دوران اس وقت بچوں میں دیکھنے کو ملا اس وقت کے بچوں میں آج کوئی فوج کے اعلیٰ عہدے پر فائز ہے، کوئی ڈاکٹر ہے تو کوئی انجینئر بن کر ملک وقوم کی خدمت کررہا ہے

مظہر حسین شیخ:
یوم دفاع کے موقع پر بچوں کا جوش اور جذبہ قابل دید ہوتا ہے ان کے بس میں ہو تووہ بھی دشمن کو ناکوں چنے چبوا دیں اور اپنے پیارے ملک پاکستان کی طرف ہر میلی آنکھ دیکھنے والوں کوعبرت ناک انجام تک پہنچا کر دم لیں۔یہی جوش وجذبہ 6ستمبر1965ء کوہونے والی پاک بھارت جنگ کے دوران اس وقت بچوں میں دیکھنے کو ملا اس وقت کے بچوں میں آج کوئی فوج کے اعلیٰ عہدے پر فائز ہے، کوئی ڈاکٹر ہے تو کوئی انجینئر بن کر ملک وقوم کی خدمت کررہا ہے۔آج کے بچے بھی اعلیٰ عہدوں پر فائز ہو نے کی خواہش رکھتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ نسل نوتعلیمی میدان میں ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلمان امن پسند قوم ہے اوربچہ بچہ امن چاہتا ہے لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کہ مسلمان قوم اینٹ کا جواب پتھر سے دینا بھی خوب جانتی ہے،تاریخ گواہ ہے کہ مسلمان نے کبھی چھپ کر وار نہیں کیا ہمیشہ سامنے سے وار کیاکیونکہ بزدل پیچھے سے وار کرتے ہیں اور بہادر سامنے سے، جس کا سب سے بڑا ثبوت 6ستمبر1965ء کو پاک بھارت جنگ ہے۔5اور6ستمبر کی درمیانی شب کوبھارت نے پاکستان پر اچانک حملہ کر دیاسترہ روزہ اس جنگ میں بھارت بُری طرح ذلیل ورسوا ہوا۔یقیناً آپ نے اپنی نصابی کتابوں میں اسے تفصیل سے پڑھا ہوگا۔
 ہندو ازل سے ہمارا دشمن ہے۔ مسلمانوں کے ساتھ ہندوؤں کی دشمنی کوئی آج سے نہیں بلکہ یہ دشمنی چودہ سو سال سے چلی آرہی ہے اوراگر بھارت کا یہی رویہ رہا تو یہ دْشمنی تاقیامت چلتی رہے گی۔جبکہ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کہ جنگ وجدل سے مسائل حل نہیں ہو سکتے آخر کار مذاکرات کی میز پرآنا ہی پڑتا ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ مسلمان ایک بہادر اور امن پسند قوم ہے بہادر چُھپ کر وار نہیں کرتااوردشمن کوللکار کرحملہ آورہوتا ہے۔ بزدل ہمیشہ چُھپ کر وار کرتا ہے یہی کچھ پانچ اور چھ ستمبر کی درمیانی شب کو ہمارے پڑوسی ملک بھارت نے پاکستان کی سرزمین پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں نہ صرف پاک فوج بلکہ پاکستانی قوم کا بچہ بچہ دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑا ہو گیا۔
ہندو کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا اور اس فکرمیں رہتا ہے کہ وہ مسلمانوں کو کس طرح سے نقصان پہنچائے۔ تحریک پاکستان کے دوران جو ظلم ہندوؤں اور سکھوں نے مل کر مسلمانوں پر ڈھائے اس کی مثال نہیں ملتی۔ ہندو مسلمانوں کی الگ اسلامی ریاست کو برداشت نہ کرسکا یہی وجہ تھی کہ پاکستان بننے کے تقریباً ایک سال بعد ہی ستمبر 1948 میں کشمیر پر حملہ کردیا تاکہ پاکستان پر دباؤ ڈالا جاسکے۔ پاکستان اس وقت ابھی ایک سال کا تھا اس کے پاس جنگی سازو سامان کی انتہائی کمی تھی اور وسائل نہ ہونے کے برابر تھے مگر ہندو اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہ آیا بعدازاں پاکستان تیزی کے ساتھ ترقی کی منزلیں طے کرنے لگا۔ ہندو بنیا اس ترقی کو برداشت نہ کرسکا لہٰذا اس نے اچانک 5اور6ستمبر1965 کی درمیانی شب کو پاکستان پر حملہ کردیا۔ اس وقت بھی پاکستان کے پاس اتنی بڑی فوج تھی اور نہ ہی اتنااسلحہ مگر جو قوت و طاقت جوش وجذبہ اس قوم اور فوجی جوانوں میں تھا وہ اس بے دین و بے ایمان ہندووٴں میں نہ تھا اورمسلمانوں کے پاس طاقت تھی ایمان کی۔اللہ اور اس کے رسولﷺ کے ساتھ محبت اور یقین کی۔65ء کی اس جنگ میں قوم کا جذبہ قابل دید تھا پاکستانی طیارے جب بھارتی طیاروں کا پیچھا کرتے تو پاک وطن کے شہری بڑے جوش وجذبے کے ساتھ سڑکوں اور گلیو ں میں نکل آتے اور نعرہ تکبیر بلند کرتے وہ یہ چاہتے تھے کہ دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کے لئے ابھی اور اسی وقت بارڈر پر پہنچ جائیں لیکن یہ کام پاک وطن کی بہادر،دلیر اورنڈر فوج بخوبی سر انجام دے رہے تھے۔ یہاں تک کہ بچے بھی بالکل بے خوف وخطر سڑکوں پر نکل آتے حالانکہ دشمن کی گولا باری کے دوران ان کا سڑکوں پر آنا خطرے سے خالی نہ تھالیکن بچوں میں بھی قومی جذبہ دیکھنے کے قابل تھا۔ بچے ٹولیوں کی صورت میں پاکستان زندہ باد، پاک فوج زندہ باد کے نعرے لگاتے اور ہاتھوں میں پاکستانی پرچم اٹھائے دیوانہ وار اِدھر اُدھر بھاگ رہے ہوتے۔ وہ بچے جو اس وقت آٹھ یا دس برس کے تھے آج الحمد للہ پچاس پچاس ساٹھ ساٹھ کے ہوچکے ہیں۔ ان بچوں میں لا تعداد بچے اسی قومی جوش و جذبے کے تحت فوج میں بھرتی ہوئے۔ کوئی ائر فورس میں گیا تو کوئی پاک نیوی میں، کوئی کرنل ہوکر ریٹائر ہوا تو کوئی جنرل۔ آج بھی بچوں کے اند ر وہی جذبہ دیکھنے کو ملتا ہے جب بھی کہیں سے کوئی فوجی گاڑی یا فوجی قافلہ گزرتا ہے بچے انہیں دیکھ کر ہاتھ ہلاتے اور سیلوٹ کرتے دکھائی دیتے ہیں اور ان کے اندر پاک فوج میں جانے کی خواہش مزید ابھرتی ہے۔23مارچ کے دن فوجی پریڈ کو بچے انتہائی شوق اور جذبے کے ساتھ دیکھتے ہیں اور پھرکئی بچے اپنے والدین سے کہتے ہیں کہ پاپا میں بھی فوج میں جاؤں گا اور ہندوؤں کو مار بھگاؤں گا۔اکثر بچے اسی شوق اور جذبے کے تحت کیڈٹ سکولوں میں داخلہ لیتے ہیں تاکہ ان کے جسم پر فوجی وردی ہو۔ وہ وردی پہن کر خود کو فوجی افسر یا جوان سمجھتے ہیں اور بڑے پُر وقار طریقے سے چلتے اور بات چیت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
بچو! 6ستمبر کی جنگ ہم پر مسلط کی گئی۔ بھارت کا خیال تھا کہ پاکستان نیا نیا وجود میں آیا ہے نہ اس کے پاس کوئی اسلحہ ہے نہ بڑی فوج، نہ کوئی ٹینک ہیں نہ توپیں نہ طیارے ہیں نہ بحری جہاز، لہٰذا ہم پاکستان کو فتح کرلیں گے۔ بھار ت اس وقت بھی ایک بڑی طاقت تھا اور یہی غرو اور گھمنڈ اسے اکسا کر جنگ کی طرف لے آیا۔ بھارتی جرنیلوں اور سیاستدانوں کا کہنا تھا کہ صبح کا ناشتہ اسمبلی ہال لاہور میں کریں گے یعنی پاکستان کو فتح کرکے پنجاب اسمبلی میں فتح کا جشن منائیں گے لہٰذا بھارت نے پاکستان پر تین اطراف سے حملہ کردیالیکن جلد ہی ان کا یہ خواب چکنا چور ہو گیا۔ صدرپاکستان جنرل ایوب خان نے بھارتی حملے کے پیش نظر فوری طورپر ہنگامی حالات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ”دس کروڑ پاکستانی شہریوں کیلئے آزمائش کا وقت آن پہنچا ہے تیار ہوجاؤ ضرب لگانے کیلئے ،کاری ضربیں لگانے کیلئے کیونکہ جس بلا نے تمہاری سرحدوں پر اپنا سایہ ڈالا ہے اس کی تباہی یقینی ہے “۔ ان الفاظ نے پوری قوم کا لہو گرمادیا اور پھر پہلے ہی روز بھارت کے 800 سپاہی ہلاک یا مجروح ہوئے اور دشمن کے 22جہاز تباہ کردئیے۔پاکستان نے اسلحہ اورفوج کی کمی، ٹیک اور توپیں اور نہایت کم تعداد میں جنگی طیارے ہونے کے باوجود بھارتی افواج کو ناکوں چنے چبادئیے۔ کھیم کرن کا محاذ، چونڈہ کا محاذ، چھمب جھوڑیاں کا محاذ، واہگہ بارڈر یعنی کہ ہر محاذ پر دشمن کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارت نے سیالکوٹ محاذ پر دنیا کا سب سے بڑا ٹینکوں کے حملے کا منصوبہ بنارکھا تھا جو پاک فوج کے نڈر اور بہادر سپاہیو ں نے ناکام بنادیا۔پاک فوج نے بھارتی فوج کو پسپا کردیا۔اس دوران اقوام متحدہ نے دو قراردادیں منظور کیں جن میں دونوں ملک سے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا۔اس طرح بات چیت ہوتے ہوتے بالآخر 20ستمبر 1965 کو سلامتی کونسل میں پاکستان کے احتجاج کے باوجود جنگ بندی کی قرارداد منظور کرلی گئی۔ اس میں کہا گیا تھا کہ دونوں ممالک اپنی اپنی افواج 5اگست 1965 والی جگہوں پر لے آئیں۔ اس طرح 23 ستمبر کو جنگ بندی ہوگئی۔ بچو آپ کو یہ بھی بتاتے چلیں کہ اس جنگ میں کس ملک کا کتنا نقصان ہوا۔ جنگ میں ہلاک ہونے والے پاکستانیوں کی تعداد1033 اور بھارت 9500۔ زخمی ہونے والے پاکستانیوں کی تعداد2171 اور بھارت کی 11000، لاپتہ پاکستانی فوجی630 اور بھارتی فوجی1700۔ تباہ ہونے والے پاکستانی ٹینک 165 اور بھارتی ٹینک 475۔ تباہ ہونے والے پاکستانی طیارے14اور بھارتی طیارے110۔ پاکستان کے قبضے میں آنے والا بھارتی علاقہ 1600مربع میل اور بھارت میں قبضے میں آنے والا پاکستانی علاقہ450مربع میل۔ تو بچو اس اعداد و شمار سے ثابت ہوا کہ پاکستان کم قوت رکھنے کے باوجود اپنے سے تین گنا بھارتی فوج کو کئی گنا زیادہ نقصان پہنچایا اور اسے شکست فاش دی۔

story '''''آخرت کی تکلیف''''''

آخرت کی تکلیف
کہیں ہماری خواہشات کسی کے لیے تکلیف کا باعث تو نہیں بن رہیں۔۔۔۔! یہ الفاظ سن کر شہزادیوں کے ضبط کے سارے بندھن ٹوٹ گئے۔لیکن ! ان کا ایک ایک آنسو پکار رہا تھاکہ نہیں۔۔۔نہیں۔۔ہمیں وہ راحتیں نہیں چاہئیں

فرخ شہباز وڑائچ
عید کی آمد آمد تھی۔دونوں صاجزادیاں اپنے شفیق باپ کے پاس آئیں اور بولیں”ابا حضور عید کا دن قریب آرہا ہے ہمارے پاس پہننے کے لیے کوئی نیا جوڑا نہیں ہے۔ہمارے پاس جتنے کپڑے ہیں وہ سب خراب اور پیوند زدہ ہیں۔اس عید پر ہمیں بھی نئے کپڑے بنوادیں۔تاکہ ہم بھی اپنی سہیلیوں کے ساتھ عید خوشی سے منا سکیں“ باپ نے بیٹیوں کی بات سنی ایک لمحے کے لیے سر جھکا لیا۔چاروں طرف خاموشی پھیل گئی تھی۔مہربان باپ دیر تک سرجھکائے کچھ سوچتا رہا پھر اپنی بچیوں سے مخاطب ہوا”میری بچیو! جو کپڑے تم نے پہن رکھے ہیں ۔انھیں دھو لو اور عید کے روز یہی کپڑے پہن لینا۔”نہیں ،بابا جان ہمیں نئے کپڑے بنوا کر دیں۔عید پر سب نئے کپڑے پہنتے ہیں“ ۔دونوں صاجزادیوں کا اصرار بڑھ گیا تھا۔وہ باپ جس نے کبھی اپنی پیاری اولاد کی کوئی بات رد نہ کی تھی،شفقت بھرے لہجے میں بولا”میری شہزادیو! عید کا دن اللہ کی عبادت کرنے اور اس کی دی گئی نعمتوں کا شکر بجا لانے کا دن ہے۔اس دن نئے کپڑے پہننا فرض تو نہیں“۔لیکن صاجزادیاں تھیں کہ ضد کیے جا رہی تھیں۔جب دونوں کی ضد اور اصرار حد سے بڑ ھ گیااور باپ نے کوئی جواب نہ دیا تو،صاجزادیوں کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔صاجزادیاں روتے ہوئے باپ سے لپٹ گئیں۔باپ تو پھر باپ تھا آخر کہاں تک برداشت کرتا۔۔۔باپ بھی کون وقت کا خلیفہ جی ہاں امیر المومنین حضرت عمر بن عبدالعزیزجن کی امارت کی گواہی مدینے کی گلیاں دیا کرتی تھیں۔ جب حضرت عمر بن عبدالعزیز مدینہ کے گورنر بنائے گئے، تو اس وقت ان کا ذاتی سازوسامان اس قدر وسیع اور عظیم تھا کہ صرف اسی سے پورے تیس اونٹ لادکر مدینہ منورہ بھیجے گئے، جسم اس قدر تروتازہ تھا کہ ازار بند پیٹ کے پٹوں میں غائب ہوجاتا تھا، خوبصورت لباسِ وعطریات کے بے حد شوقین تھے، نفاست پسندی کا یہ عالم تھا کہ جس کپڑے کو دوسرے لوگ آپ کے جسم پر ایک دفعہ دیکھ لیتے تھے دوبارہ نہیں دیکھتے تھے، خوشبو کے لیے مشک اور عنبر استعمال کرتے تھے، کہنے والوں نے کہا”کہ ہماری سلطنت میں سب سے زیادہ خوش لباس، معطر اور خوش خرام شخص عمر بن عبدالعزیز تھے “آپ جس طرف سے گزرتے تھے گلیاں اور بازار خوشبو میں نہاجاتے؛ لیکن جس دن خلیفہ اسلام بنائے گئے، آپ نے ساری جاگیریں اصل مالکوں کو واپس کردیں اور فرش، لباس، عطریات، سازوسامان، محلات، لونڈی وغلام اور سواریاں سب بیچ دیے،اور قیمت بیت المال میں داخل کردی، آپ کے پاس صرف ایک جوڑا رہتاتھا جب وہ میلا ہوتا، اسی کو دھوکرپہن لیتے تھے۔خلیفہ وقت اپنی صاجزادیوں کے آنسو برداشت نہ کر پائے،دل بھر آیا۔بیت المال کے نگران کو بلاوا بھیجا گیا۔خلیفہ کہنے لگے”مجھے ایک ماہ کی پیشگی تنخواہ چاہیے“نگران نے عرض کیا ”کیا آپ کو یقین ہے کہ آپ پیشگی تنخواہ وصول کر لینے کے بعد ایک ماہ تک زندہ رہیں گے“۔نگران کی بات سن کر خاموش ہوگئے اور پھر اپنی پیاری بیٹیوں سے مخاطب ہوئے”اللہ اور اس کے رسول ﷺکی خاطر اپنی خواہشات کو قربان کر دو۔کیونکہ ایسے لوگوں سے اللہ راضی ہوتا ہے۔بے شک ایسے لوگ ہی جنت کے مستحق ہیں“۔اس طرح یہ بات ختم ہوگئی اور آپ ریاست کے امور دیکھنے چلے گئے۔حکومتی معاملات سے فارغ ہو کرواپس تشریف لائے تو دیکھا کہ آپ کی دونوں شہزادیوں نے منہ پر سختی سے ہاتھ جما رکھے ہیں۔آپ کے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ آج گھر میں کھانے کے لیے کچھ نہ تھا۔اس لیے دونوں نے کچے پیاز کھاکر اپنی پیاز مٹائی ہے۔پیاز کی بو چھپانے کے لیے ہاتھ منہ پر رکھے ہوئے ہیں۔شفیق باپ کو بچیوں کا ایثار تڑپائے بغیر نہ رہ سکا۔آنکھیں تم آلود ہو گئیں،فرمایا”میں خلیفہ وقت ہوں میرے لئے یہ کام مشکل نہیں کہ تمہارا دسترخوان لذیذ کھانوں سے بھر دوں۔مگر کیا تم پسند کرو گی کہ ان دنیاوی نعمتوں کے بدلے میں تمہاراباپ دوزخ میں ڈال دیا جائے“۔یہ الفاظ سن کر شہزادیوں کے ضبط کے سارے بندھن ٹوٹ گئے۔لیکن ! ان کا ایک ایک آنسو پکار رہا تھاکہ نہیں۔۔۔نہیں۔۔ہمیں وہ راحتیں نہیں چاہئیں جن کے بدلے ہمارا باپ آخرت کی تکلیف میں مبتلا ہو“۔تو کہیںآ پ بھی اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے اپنے والدین کو آخرت کی تکلیف کی طرف تو نہیں لے کر جارہے۔۔۔۔؟

story '''انوکھی ترکیب"'''

انوکھی ترکیب
وہ دن میاں بلاقی کیلئے انتہائی حیرت انگیز تھا۔ صبح کے وقت وہ اپنی بگھی کا پہیا ٹھیک کررہا تھا کہ کسی نے اس کا کندھا ہلایا۔ اس نے گھوم کر دیکھا تو بڑے سے سر والا ایک بونا آدمی کھڑا تھا

جاوید بسام:
وہ دن میاں بلاقی کیلئے انتہائی حیرت انگیز تھا۔ صبح کے وقت وہ اپنی بگھی کا پہیا ٹھیک کررہا تھا کہ کسی نے اس کا کندھا ہلایا۔ اس نے گھوم کر دیکھا تو بڑے سے سر والا ایک بونا آدمی کھڑا تھا۔ وہ بولا: ”مجھے میاں بلاقی کی تلاش ہے۔“
”تم اس وقت اسی سے بات کررہے ہو۔“ بلاقی نے کہا۔
”لیکن میں کیسے یقین کروں کہ تم ہی بلاقی ہو؟“ بونا اکڑکر بولا۔
”ہاں یہ بھی ٹھیک ہے۔“ بلاقی تعجب سے بولا۔ اس نے ادھر ادھر نظر دوڑائی تاکہ گواہی دلواسکے، لیکن وہاں اور کوئی نہیں تھا۔ پھر اسے خیال ایا اور وہ مسکرا کر بولا: ”میں تمہیں اپنا شناختی کارڈ دکھاؤں؟“
”ہاں۔“ بونے نے خوش ہوکرکہا۔
بلاقی نے کارڈ نکال کر دکھایا اور پوچھا کہ وہ اسے کیوں ڈھونڈ رہا تھا۔ بونا رونی صورت بنا کر بولا:”رات ہمارے چچا فوت ہوگئے۔ ان کی وصیت تھی کہ مرنے کے بعد انہیں آبائی گاؤں میں دفن کیا جائے۔ ہمیں ان کی میت لے کر جانی ہے۔“
یہ سن کر بلاقی اچھل پڑا۔ وہ عرصہ دراز سے لوگوں کے گھروں کا سامان، غلے کے بورے اور پالتو جانور ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچاتا آیا تھا، لیکن اس نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ایک دن اسے ایک میت بھی پہنچانی پڑے گی۔ پھر اسے کچھ خیال آیا اور وہ بولا: ”بھائی! تم اسپتال کی گاڑی کیوں نہیں لیتے؟“
بونا منہ بنا کر بولا: ”اسپتال میں صرف ایک گاڑی ہے اور وہ کل ہی کسی کی میت لے کر دوسرے قصبے گئی ہے۔“
”اچھا مجبوری ہے۔ چلو ٹھیک ہے، ہم ابھی چلتے ہیں۔“ بلاقی نے پہیے کو دو تین ہتھوڑے لگائے اور وہاں سے چل دیا۔ بونا اسے راستہ بتاتا جارہا تھا۔
کچھ دیر میں وہ مضافاتی علاقے میں پہنچ گئے۔ وہاں دور دور گھر بنے تھے۔ ایک بڑے مکان کے آگے بونے نے بگھی رکوائی، ایسا لگتا تھا جیسے مکان بہت دنوں سے خالی پڑا ہے بونے نے پھرتی سے اتر کر پھاٹک کی زنجیر کھولی اور پھاٹک چرچراہٹ کے ساتھ کھل گیا۔ اس نے بگھی اندر لانے کا اشارہ کیا۔ گھر کے احاطے میں پرانے درخت اور جھاڑیاں اُگی تھیں۔ بلاقی ان سے بچتا ہوا بگھی عمارت کے اندر تک لے آیا۔ اسی دوران دو آدمی باہر آئے اور بلاقی کو غور سے دیکھنے لگے۔ ان میں ایک لمبا اور دوسرا موٹا تھا۔
”میت کہاں ہے؟“ بلاقی نے پوچھا۔
”آؤ، اندر آجاؤ۔“ بونا اُچھل کر سیڑھیاں چڑھتے ہوئے بولا۔
سب گھر میں داخل ہوئے۔ بلاقی کو کمرے میں ایک تابوت رکھا نظر آیا۔ اس نے اپنا ہیٹ اُتارا او احترام سے آگے بڑھ کر اس میں جھانکا، لیکن وہ خالی تھا۔ وہ حیرت سے پلٹا۔ اسی دوران باہر سڑک پر کسی پولیس وین کے گزرنے کی آواز سنائی دی۔ اس کا سائرن بج رہا تھا۔ وہ تینوں اُچھل پڑے اور دیوار کے ساتھ چپک گئے۔ وین پھاٹک کے قریب آکر رک گئی۔ کچھ دیر رکی وہی پھر آگے بڑھ گئی۔ جب وہ دور چلی گئی تو بونے کے ساتھ بونے کو غصے سے گھورنے لگے۔ ان کا خیال تھا کہ بونا پولیس کو اپنے پیچھے لگا لایا ہے، جب کہ بونا کہہ رہا تھا کہ وین اتفاق سے وہاں آنکلی ہے۔ ان میں بحث ہونے لگی۔
بلاقی کو گڑبڑ کا احساس ہوا، وہ بولا:” دوستو! میرا خیال ہے آپ کی میت ابھی پہنچی نہیں، میں چلتا ہوں، کل اسی وقت آکر معلوم کرلوں گا۔‘
وہ دروازے کی طرف بڑھا، لیکن لمبا آدمی اُچھل کر اس کے سامنے آگیا اور پستول نکالتے ہوئے بولا: ”بڑے میاں! کہا چلے؟ میت ابھی آجاتی ہے۔“
اس نے بونے آدمی کو اشارہ کیا۔ وہ اکڑتا ہوا آگے بڑھا اور تابوت کا ڈھکنا کھول کر اس میں لیٹ گیا۔ اس نے آنکھیں بند کرلیں تھیں۔ باقی دونوں نے فوراَ۔ رونا شروع کردیا: ”ہائے! ہمارے چچا فوت ہوگئے۔“
وہ اچھی ادا کاری رکرہے تھے۔ بلاقی کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ یہ کیا ہورہا ہے۔ اچانک لمبے آدمی نے پستول اس کے سینے پر رکھ دیا اور سفاک لہجے میں بولا: ”بڑے میاں! سنو ہمیں یہ تابوت اس قصبے سے نکالنا ہے۔ تم ہماری مدد کرو گے ورنہ․․․․․“ اس نے آسمان کی طرف اشارہ کیا۔ اس کے تیور اچھے نظر نہیں آرہے تھے۔
”لیکن تم ایسا کیوں کررہے ہو؟“ بلاقی نے پوچھا۔
لمبے آدمی نے اس کی بات کا جواب نہیں دیا اور چیخ کربولا: ”جلدی کرو، تابوت بگھی میں رکھو۔ ہم فوراََ یہاں سے نکل رہے ہیں۔“
بلاقی کو مجبوراََ اس کا حکم ماننا پڑا۔ اس نے موٹے آمدی کے ساتھ تابوت اٹھا کر بگھی میں رکھا۔ دونوں اس کے ساتھ اگلی نشست پر بیٹھ گئے۔ لمبے آدمی کا ہاتھ بلاقی کی کمر سے لگا تھا، جس میں پستول تھا۔ اب وہ سے چل دیے۔قصبے سے نکل کر کچھ دور چلنے کے بعد انہیں پولیس چوکی نظر آئی۔ لمبے اور موٹے دونوں آدمیوں نے اپنے بال بکھیرے، آنکھیں رگڑیں اور رونی صورت بنا کر بیٹھ گئے۔
وہاں کئی بگھیاں قطار میں لگی تھیں بلاقی نے بھی بگھی روک دی۔ ایک پولیس اہلکار ان کی طرف آیا۔ قریب آکر وہ مسکرایا: ”آیا، چچا بلاقی! کہاں چلے؟“
وہ بلاقی کے ایک پڑوسی کا لڑکا تھا اور اس سے اچھی طرح واقف تھا۔
بلاقی بولا: ”بیٹا! ان کا ایک عزیز فوت ہوگیا ہے، اسے گاؤں لے جارہے ہیں۔“
موٹے اور لمبے دونوں آدمیوں نے رونا شروع کردیا تھا۔ اہلکار نے پچھلے حصے پر ایک اچٹتی نظر ڈالی اور بولا: ”چچا! ٹھیک ہے، تمہیں دیر ہورہی ہوگی، تم ادھر سے نکل جاؤ۔“
اس نے راستہ بنانے کیلئے سیٹی بجائی۔
بلاقی نے بے دلی سے گھوڑوں کو چابک مارے۔ وہ دل میں سوچ رہا تھا کہ یہاں بھی جان پہچان نکل آئی۔ ورنہ دوسرا کوئی اتنی آسانی سے جانے نہیں دیتا۔ ان کی بگھی آگے بڑھ گئی۔
کچھ دور جاکر موٹے اور لمبے دونوں آدمیوں نے خوشی سے ہاتھوں پر ہاتھ مارے اور ہنسنے لگے۔ لمبا آدمی بولا: ”واہ واہ، میان بلاقی! ہمارا فیصلہ درست تھا تم اس قصبے میں کسی کے چچا، کسی کے خالو اور کسی کے ماموں ہو، ہم نے اسی لئے تمہاری بگھی لی تھی۔“
بلاقی سوچ رہا تھاکہ ان چالاک لوگوں نے اس کی شہرت سے فائدہ اٹھایا ہے۔ اس دوران پیچھے کھٹ پٹ ہوئی اور بونا آدمی تابوت میں سے نکل آیا۔ لمبے آدمی ے ڈانٹ کر کر اس سے دوبارہ لیٹنے کو کہا، کیوں کہ ابھی سڑک پر بگھیاں گزررہی تھیں۔ بونا پھر لیٹ گیا۔ وہ چلتے رہے۔
دوپہر تک وہ ایک اور قصبے کے نزدیک جا پہنچے۔ وہاں بھی گاڑیوں کی تلاشی لے جارہی تھی۔ ایک اہلکار ان کی طرف آیا۔ بلاقی نے وہی بات دہرائی۔ لمبے اور موٹے آدمی کے آنسو بہہ رہے تھے۔ اہلکار نے پچھلا دورازہ کھولا اور تابوت کا معائنہ کرنے لگا۔ پھر آگے آیا او بولا: ”مرنے والے کا ڈیتھ سرٹیفیکٹ دکھاؤ۔“
بلاقی لمبے کی طرف منہ کر کے بولا: ”ہاں بھئی سرٹیفیکیٹ دکھاؤ۔“
لمبا آدمی ہکلا کر موٹے آدمی سے بولا: ”ہاں․․․․․ہاں سرٹیفیکیٹ نکالوں، کہاں ہے؟“
موٹے آدمی نے بے چاررگی سے اسے دیکھا اور اپنی جیبیں ٹٹولنے لگا، آخر ایک پرچا اس کے ہاتھ لگ گیا: ”ہاں یہ ہے سرٹیفیکٹ۔“
اس نے پرچا بلاقی کو دیا اور بلاقی نے اہلکار کو پکڑا دیا۔ پرچے پر اسپتال کا نشان نظر آرہا تھا اور ڈاکٹری لکھائی میں کچھ لکھا تھا۔
اہلکار اسے پڑھنے کی کوشش کرنے لگا۔ اسی دوران پیچھے والی دو بگھیاں آپ سمیں ٹکرا گئیں۔ بہت زور سے آواز ہوئی۔ بہت سے لوگ چیخنے لگے، شاید کوئی زخمی ہوگیا تھا۔ اہلکار نے پرچا بلاقی کو پکڑایا اور آگے بڑھ گیا۔
”کیا ہم جائیں؟“ لمبا آدمی زور سے بولا۔
”ہاں جاؤ۔“ اہلکار نے جواب دیا۔
بلاقی نے ایک گہری سانس لے کر بگھی آگے بڑھادی۔ کچھ دور تک وہ خاموشی سے چلتے رہے، پھر لمبا آدمی موٹے کو ہاتھ مار کر بولا:”ارے بے وقوف! یہ پرچا تیرے پاس کہاں سے آیا؟“
موٹا آدمی بولا: ”باس!تمہیں پتا ہے، پچھلے دنوں مجھے کتنی کھانسی ہورہی تھی۔ تم نے ہی تو مجھے دوا لانے اسپتال بھیجا تھا، تاکہ ہم․․․․․“
لمبے آدمی نے فوراََ اسے کہنی ماری اور بولا:” چپ کر بے وقوف!“
پھر وہ زور زور سے ہنسنے لگا: ”اچھا تو یہ کھانسی کی دوا کا نسخہ تھا۔“
وہ ہنسے جارہا تھا، موٹا آدمی بھی قہقہے لگا رہا تھا۔ دونوں کھانسی کی مصنوعی آوازیں نکال رہے تھے۔ بونا بھی باہر آگیا تھا۔ بگھی تیزی سے دوڑ رہی تھی۔ اب سہ پہر ہوگئی تھی۔ گھوڑے اپنی رفتار سے دوڑ رہے تھے۔ وہ جس علاقے سے گزر رہے تھے اس کے ایک طرف گھنا جنگل اور دوسری طرف ٹیلوں، جھاڑیوں اور گڑھوں والا علاقہ تھا۔ بلاقی کسی سوچ میں ڈوبا تھا۔ اس کی نگاہیں اطراف کا جائزہ بھی لے رہی تھیں۔ دور ایک قصبے کے آثار نظر آنے لگے۔ آخر ایک جگہ بلاقی نے بگھی روک دی اور بولا: ”میں تمہیں ایک خطرے سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں۔ اب جو قصبہ آرہا ہے، وہ سرحدی علاقے میں ہے۔ وہاں بہت سخت تلاشی ہوتی ہے، میرا خیال ہے تم پکڑے جاؤ گے۔“
لمبا آدمی سوچ میں پڑگیا پھر بولا: ”ہمیں کیا کرنا چاہئے؟“
”اس کا حل یہ ہے کہ ہم کوئی دوسرا راستہ استعمال کریں اور قصبے سے آگے نکل جائیں، کچھ دور جا کو واپس سڑک پر آجائیں گے۔“ بلاقی بولا۔
”ہاں ، ہم میدان میں سے گزر سکتے ہیں۔“ لمبا آدمی جلدی سے بولا۔
”نہیں، میدان ہموار نہیں ہے، وہاں بگھی الٹ جائے گی۔ ہمیں جنگل کا راستہ اختیار کرنا پڑے گا۔“ بلاقی نے کہا۔
”لیکن جنگل تو بہت گھنا ہے، اس میں کوئی راستہ دکھائی نہیں دے رہا۔“
”میں ایک راستہ جانتا ہوں۔“ بلاقی نے کہا۔
اسی دوران آسمان پر گہرے بادل اُمڈ آئے تھے اور سورج بادلوں میں چھپ گیا۔ آخر انہیں بلاقی کی بات ماننی پڑی۔ بلاقی نے بگھی کا رخ موڑا اور پیچھے آکر ایک تنگ راستے پر بگھی ڈال دی۔ ایک لمحے کیلئے اس کے چہرے پر مسکراہٹ نظرا ٓئی تھی جو اس نے فوراََ چھپا لی تھی۔ راستہ بہت خراب تھا۔ جگہ جگہ جھاڑیاں اور درخت اُگے تھے۔ بگھی بار بار رخ بدل رہی تھی۔ لمبا آدمی فکر مندی سے بولا: ”ہم کہاں جارہے ہیں؟ کچھ پتا نہیں چل رہا۔“
اس نے آسمان کی طرف دیکھا۔ سورج بادلوں میں چھپا تھا، سمت کا کوئی اندازہ نہیں ہورہا تھا۔ بگھی چلتی رہی۔ تینوں پریشانی سے ادھر ادھر دیکھ رہے تھے۔ آخر لمبا آدمی چلایا: ”روکو! فوراََ بگھی روکو!“
بلاقی نے بگھی روک دی۔ لمبا آدمی غراکر بولا: ”تم ہمیں بھٹکا رہے ہو۔ کچھ پتا نہیں چل رہا ہے کہ ہمارا رخ کدھر ہے؟“
بلاقی اطمینان سے بولا: ”فکر نہ کرو ہم وہی جارہے ہیں، جہاں ہمیں جانا چاہیے۔“
”نہیں ، میں تم پر بھروسا نہیں کرسکتا۔“ اس نے بلاقی کو ہٹایا اور خود بگھی چلانے لگا، لیکن وہ اتنا اچھا کوچوان نہیں تھا۔ ایک جگہ پہیا کسی درخت کی گری ہوئی شاخ پر چڑھا اور بگھی الٹتے الٹتے بچی تو لمبے آدمی کے ساتھیوں نے اسے مشورہ دیا کہ بگھی بلاقی کو ہی چلانے دی جائے۔ بلاقی پھر بگھی چلانے لگا۔ اچانک ایک موڑ مڑنے پر سامنے ایک پھاٹک نظر آیا۔ بگھی کی رفتا تیز ہوگئی تھی۔ وہ پھاٹک سے ٹکرائی۔ وہ فوراََ کھل گیا۔ بگھی دوڑتی رہی۔ لمبا آدمی چیخا: ”یہ ہم کہا جارہے ہیں۔؟“
بلاقی نے کہا: ”معلوم نہیں شاید میں راستہ بھول گیا ہوں۔“
کچھ دور ایک عمارت نظر آرہی تھی۔ بلاقی نے بگھی وہاں جاکر روک دی۔ دوڑتے قدموں کی آوازیں سنائی دیں اور کئی پولیس اہلکار نظر آئے۔ ان کے ہاتھوں میں اسلحہ تھا۔ بونا آدمی چلایا: ’ہم پھنس گئے ہیں، اس نے ہمیں پھنسادیا۔“
لمبے آدمی نے غضب ناک ہو کر ہوا میں دو فائر کیے۔ اہلکار درختوں کے پیچھے چھپ گئے۔ لمبے آدمی نے بلاقی کو ہٹا کر بگھی خود چلانی شروع کردی۔ بگھی تیزی سے دوڑ رہی تھی۔ اچانک وہ ایک گڑھے پر سے گزری اور ٹیڑھی ہو کر رک گئی۔ سب لڑھک کر باہر جاگرے۔ بلاقی کی ٹانگ پر سخت چوٹ آئی اور وہ تکلیف سے کراہنے لگا۔ لمبے آدمی کا پستول بلاقی کے آگے گرا تھا۔ وہ اٹھانے کیلئے جھپٹا، لیکن بلاقی نے فوراََ اٹھا کر دور پھینک دیا۔ اسی دوران پولیس اہلکارو وہاں آگئے اور تینوں کو پکڑلیا۔
جلد ہی وہ عمارت میں بیٹھے تھے۔ وہاں سب بلاقی کو پہچانتے تھے۔ وہ پولیس ٹریننگ سینٹر تھا۔ بلاقی ہر مہینے وہاں کھانے پینے کا سامان پہنچایا کرتا تھا۔ اس نے تمام واقعہ سینٹر کے نگراں کو سنایا اور بولا: ”جناب! میرا خیال ہے کہ تابوت کی نچلی تہ دہری ہے۔ اس میں کوئی قیمتی چیز چھپائی گئی ہے۔“
تینوں لٹیرے غصیلی نظروں سے بلاقی کو گھور رہے تھے۔ نگراں نے آدمی سے آری منگوائی۔ وہ آری لایا اور تابوت کاٹنا شروع کیا۔ بلاقی بولا: ”نگراں صاحب! آپ کو پتا ہے میسم ٹاؤن کے علاقے سے کیا کیا چیزیں باہر جاتی ہیں؟“
نگراں نے حیرت سے اسے دیکھا اور بولا: ”بہت سی چیزیں مثلاََ مرغیاں، سبزیاں اور ہاں گنے بھی۔“
بلاقی کی نظریں تابوت پر جمی تھیں وہ بولا: ”ہاں ایک چیز اور بھی ہوسکتی ہے، مثلاََ کوئی قیمتی چیز جسے عجائب گھر سے چرایا گیا ہو۔“
اسی وقت تابوت کٹ گیا اور اخباری کاغذوں میں لپٹی ہوئی کوئی چیز نظر آئی۔ کاغذ ہٹانے پر اندر سے مورتی نکلی ۔ وہ سونے کی بنی ہوئی مورتی تھی۔ سب حیران رہ گئے۔ تینوں لٹیروں کو گرفتار کر کے ایک پولیس وین میں قصبے روانہ کردیا گیا۔ بلاقی کے ساتھ بھی ایک اہلکار گیا تھا۔ بلاقی کی ٹانگ میں بہت تکلیف تھی۔ اسے اسپتال لے جایا گیا، جہاں معائنے کے بعد اس کی ٹانگ پٹیوں میں جکڑدی گئی اور ایک مہینے آرام کر نے کا کہا گیا۔ بلاقی کچھ پریشان نظر آرہا تھا۔ اہلکار نے اسے گھر چھوڑا اور واپس چلا گیا۔
اگلے دن میوزیم سے کچھ لوگ اس سے ملنے آئے۔ انہوں نے بلاقی کا شکریہ ادا کیا اور اس کی بہادری کی تعریف کی۔ پھر انہوں نے جیب سے ایک موٹا لفافہ نکالا اور بولے: ”میاں بلاقی! ہمارے ڈائریکٹر صاحب نے یہ رقم تمہیں انعام میں بھجوائی ہے۔“
بلاقی بولا: ”جناب! انعام کی ضرورت نہیں یہ تو ہر اچھے شہری کی ذمہ داری ہے کہ مجرموں پر نظر رکھے۔“
وہ ہنس کو بولے: ” ہاں اور اچھے شہری کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے، تاکہ وہ خوب آرام کرے، کھائیے پیے اور صحت یاب ہوکر ایک بار پھر چوروں اور لٹیروں کو پکڑ سکے۔“
سب زور زور سے ہنسنے لگے۔

Thursday, 11 September 2014

ABOUT ABDULLAH


ABDULLAH


ABDULLAH

            NAME                                    :           ABDULLAH
            Father’s Name                     :           Arshad mehboob
            Date of Birth                          :           23.09.1998
            Domicile                                :           Lahore (Punjab)
            Marital Status                        :           Single
            NIC No.                                  :           35202-6269477-3
            Postal Address                     :           House No.36, Street No.5,
Kiran park,Rachna town near sheak hospital, Lahore.
            Mobile No.                             :           0302-4495292

ACADEMIC QUALIFICATION
           Middle                                :          BISE;Lahore                                  2012
           Matric (Science)               :         BISE, Lahore                                    2014
          Fsc(engg)                           :        Continues    
EXTRA QUALIFICATION

ü    Three month English Language course.

PROFESSIONAL EXPERIENCE

ü    Online earning on internet

Hobbies

            Computers, cricket and Books.

Wednesday, 10 September 2014

Fsc Part_1 Chemisrty CH no 2 theory


i.        a
i.        FILTRATION
            The process in which insoluble particles are separated from a liquid is called filtration. For filtration we can use a Filtration paper or Filter crucible.
Filter Paper:
            The filtration by filter paper is a slow process. In this process solvent passes through filter paper and insoluble particles are left behind on the filter paper. Many types of filter papers are available. They have different porosites (pore sizes). A suitable filter paper is chosen. Its size should be large so that it should be to full of precipitates at the end of filtration.
The funnel should be large so that its rim should extend 1-2 cm above the filter paper. The stem of funnel should be long. It should touch the side of beaker. Moreover stem of funnel should remain full of liquid during the filtration. The filter paper should be fitted properly otherwise it is time wastage.
Folding of Filter Paper:
i.        Filter paper should be folded twice.
ii.        The first fold should be along the diameter.
iii.        In second fold the edges should not be quite matched.
iv.        The folded filter paper should be opened on the larger section.
v.        A cone is formed by three fold side and one fold side.
vi.        The apex angle should be greater than 60o.
vii.        Then filter paper is placed into the 60o funnel.
viii.            Finally wet the filter paper and press it firmly.
ix.            The rate of filtration can be increased by gentle suction.
  x.            The rate of filtration can also be increased by fluted filter paper.





(Fluted Filter Paper)
Fluted Filter Paper:
            A Filter Paper Raving many elevations and depressions is called fluted filter paper. A filter paper folded by fan like arrangement with alternate elevations and depressions given fluted filter paper.
Filter Crucibles:
            We use filter crucible for an easy filtration. There are two types of filter crucibles.
i.        Gooch Crucible
ii.        Sintered glass Crucible
i.          Gooch Crucible:
            It is made of porcelain. Its bottom is perforated covered with paper pulp. The Gooch crucible is placed on suction apparatus. It is shown in figure. It is used to filter those precipitates which are to be heated at high temperature. Some solutions like HCl, KMnO4 react with paper. So their filtration is done by covering Gooch crucible with asbestos [CaMg3 (SiO3)4].









(Gooch Crucible Fitted on Filtring Apparatus)

ii.         Sintered Glass Crucible:
            It is made of glass. Its bottom is sealed with sintered (porous) glass disc. It needs no preparation. All solutions can be filtered by it.





(Sintered Glass Crucible)
ii.       Crystallization
            The process of crystals formation is called crystallization. When a hot saturated solution of a substance is cooled, then crystals of solid substance separate out. It is called crystallization. This process is used for purification of solid compounds. E.g. Purification of naphthalene. The process of crystallization involves the following steps.
i.          Choice of Solvent:
            A suitable solvent is chosen by hit and trial method. An ideal solvent has following properties
i.        It should dissolve maximum amount of solute.
ii.        It should not react with solute.
iii.        It should not dissolve the impurities.
iv.        On cooling, it should form pure crystals
v.        It should be cheap (in-expensive)
vi.        It should be easily removable.
vii.        Its use should be safe
viii.        An inflammable solvent should be heated on water bath. The most common solvents are water, rectified spirit(95% alcohol), absolute alcohol(99% alcohol), ether, chloroform, acetone, acetic acid, carbon tetra chloride.
ii.         Preparation of Saturated Solution:
            The substance is dissolved in minimum amount of solvent. To dissolve more and more solute, the solution should be heated directly or on water bath. The stirring of solution is necessary.
Precaution:There are certain solutions which are volatile and these should be heated with the help of water bath.
                                                                                    Diagram……

iii.        Filtration:
            The hot saturated solution is filtered to remove insoluble impurities. Sometimes premature crystals can form. It can be prevented by using hot water funnel.

                                                                                                                                                                                                                        Diagram…..
                                                                                                                                                                                               


iv.        Cooling:
            The hot filtered solution is cooled. The moderate cooling gives the medium sized crystals and slow cooling gives bigger crystals. Therefore slow cooling is avoided because it contains solvent as an impurity. Sometimes a few crystals of pure solid are added in solution to start the crystallization process.
v.         Collecting the Crystals:
            When the crystallization is complete, then mixture of crystals and mother liquor is filtered through Gooch crucible using a vacuum pump. The mother liquor is removed completely by full suction. Then the filter cake is pressed to remove the rest mother liquor. Finally the crystals are washed with small amount of cold solvent. This process is repeated many times till pure crystals are formed. By evaporation of the mother liquor we can get a fresh crop of crystals. The mixture through which crystals are formed called mother liquor.
                                                                                                                                                                                                                        Diagram………

vi.        Drying of Crystals:
            There are three methods for drying the crystals.
a)      Press the crystals between the folds of filter paper. Repeat this process many times but by this method crystals are crushed and fibers of filter paper can mix with them.
b)      Dry the crystals at 100oC in an oven. Here solid should not melt or decompose at 100oC. This method is also not reliable because there are many solids which have low very low m.p can not be dried.
c)      Spread the crystals over watch glass and keep in vacuum desiccators for many hours. The drying agents used in desiccators are CaCl2, P2O5, Silica gel. This is the most reliable method
                                                        Diagram…………….

vii.       Decolourization of Undesirable Colours:
            Sometimes crystals become coloured due to impurities. To prevent it, the substance is boiled with animal charcoal. Animal charcoal absorbs the coloured impurity. The pure colourless crystals are formed by cooling the filtrate.
iii.      Sublimation
            The process in which a solid, on heating directly changes into vapours without passing through liquid state is called sublimation. The hot vapours are then condensed to form the solid again. It is called sublimate. The process of sublimation is used to purify the solids. E.g. Naphthalene, NH4Cl, Iodine and benzoic acid etc. the solid substance is taken in a watch glass. A funnel is inverted on it. The solid is heated slowly over a sand bath. The funnel is cooled by wet cotton. The pure solid deposits on the inner sides of funnel and impurities are left behind in watch glass.
Limitation: Those substances can be sublimed which have high v.p than their m.p

iv.      Solvent Extraction
            We can separate a solute from a solution by shaking it with an immiscible solvent in which solute is more soluble. It is called solvent extraction. It is mainly used to separate organic compounds from water. It is done by an apparatus called.
i.          Separating Funnel:
            It is shown in figure. The example of solvent extraction is ether extraction. In this method an aqueous solution containing an organic compound is taken in separating funnel. The ether is also put into the funnel. It is stoppered, shaken well and allowed to stand. After sometime two layers are formed. The organic compound goes to ether layer and

Inorganic impurities remain in water layer. The ether layer is separated. It is evaporated on water bath to get organic compound. The repeated extraction using small portions of solvent (ether) are more efficient than a single extraction using large volume of solvent. The solvent extraction is an equilibrium process. So it is based upon Distribution law or Partition law.
This law states that a solute distributes itself between two immiscible liquids in a constant ratio of concentration irrespective of its added amount. The ratio of concentration of a solute dissolved in two immiscible solvents is a constant. It is called distribution coefficient. It is given as
                        
            For example distribution of I2 in water and Carbon tetrachloride. The I2 is not very soluble in water but readily soluble in aqueous KI. In water I2 is soluble in the form of tri Iodide ion (). When ccl4 is added to aqueous solution of ions, then equilibrium takes place.
                        
            When two solvents are gently shaken, then their area of contact increases and transfer of I2molecules improves. Thus a good separation is achieved. The result is that brown colour of  in aqueous layer fades and purple colour of free I2 in CCl4 layer appears. When equilibrium is established, then rate at which iodine passes from CCl4 to water equals the rate at which it passes from water to CCl4 . The distribution coefficient is given as k = [I2(CCL4)]
                      [I3(water)]
                      
v.       Chromatography
            The word chromatography is derived from Greek word “Khromatos” which means colour writing. A technique by which we can separate components of a mixture due to their different distribution between stationary and mobile phase is called chromatography. The phase over which mobile phase flows is called stationary phase. It may be a solid or liquid. The phase which flows over the stationary phase is called mobile phase. It may be a liquid or gas.
Principle:
            The principle of chromatography depends upon two points.
i.        Relative affinity (solubility) of components in two phases.
ii.        Distribution coefficient of components in two phases. The distribution coefficient K is given as 
A component with smaller value of K remains in stationary phase.
A component with grater value of K remains in mobile phase.
Types of Chromatography
            The chromatography has two types
                        (i)         Adsorption Chromatography
                        (ii)        Partition Chromatography
i.          Adsorption Chromatography:
            The Chromatography in which solid substance is used as stationary phase is called adsorption chromatography. e.g. Column Chromatography.
ii.         Partition Chromatography:
            The Chromatography in which a liquid substance is used as stationary phase is called partition chromatography. e.g. paper chromatography.
Paper Chromatography
            It is a kind of partition chromatography. Here stationary phase is liquid (H2O) adsorbed on paper. The mobile phase is an organic liquid which passes over the paper. The solutes are distributed between two liquids. There are three kinds of paper chromatography.
i.        Ascending paper chromatography
ii.        Descending paper chromatography
iii.        Radial / Circular paper chromatography
Here will explain only ascending type.
Ascending Paper Chromatography
            The chromatography in which solvent front or mobile phase travels upwards by capillary action is called ascending paper chromatography.
Method:
            A solvent mixture is taken in a chromatographic tank. A 20 cm long strip of whatmann’s paper no.1 is taken and a pencil line is drawn on it at 2.5 cm from one end. A spot point of mixture solution is put on the line. Two other spots of pure components are also put on the line as standard. Now spots are dried and paper is suspended into the tank such that its lower end dips 5-6 mm into the solvent. The glass cover is put on the tank. The solvent passes the spots. The solutes begin to move upward according to their distribution coefficients.


            When the solvent has covered length of paper, then strip is removed, position of solvent is marked and paper is dried. The pattern on the is called chromatogram.
            If spots are coloured, then they can be easily identified. If spots are colourless, the chromatogram is developed by physical or chemical methods. The retardation factor (Rf) of each component is calculated as 
            Each component has its specific Rfvalue. For example the shown chromatogram tells that mixture solution (A) has two components (B, C). Their Rf values are given as

Rf(B)= x/y   (x is distance covered by component B, Z is distance covered by component C and y is distance covered by solvent)
 Rf(C)= z/y                           Think! Why Rf value can never be greater than 1            
Uses of Chromatography:
i.        The chromatography is useful in separation of organic compounds.
ii.        It is used for identification of compounds.
iii.        It is useful in qualitative and quantitative analysis.
iv.        It is used in checking purity of a compound.

Important note:A pure compound gives only one spot.

Think! Why Paper Chromatography is time consuming process?